ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیندور : ٹرانسفر سرٹفکیٹ دینے سے انکار پر طالب علم نے کی خود کشی - پولیس اسٹیشن کے باہر عوام نے کیا احتجاجی مظاہرہ

بیندور : ٹرانسفر سرٹفکیٹ دینے سے انکار پر طالب علم نے کی خود کشی - پولیس اسٹیشن کے باہر عوام نے کیا احتجاجی مظاہرہ

Wed, 22 May 2024 11:50:03    S.O. News Service

بیندور ،22 / مئی (ایس او نیوز) اسکول ذمہ داران کی طرف سے ٹرانسفر سرٹفکیٹ دینے سے انکار کرنے پر شیرور کے  میلپنکٹی علاقے میں ایک طالب علم نے پھانسی کا پھندا لگا کر خود کشی کر لی ۔
    
بتایا جاتا ہے کہ مہلوک نتین اچاری بیندور گورنمنٹ ہائی اسکول اور امسال اس نے ایس ایس ایس ایل سی کا امتحان پاس کیا تھا ۔ نتین کے گھر والوں کا کہنا ہے جب نتین پی یو سی میں داخلہ لینے کے لئے اپنا ٹرانسفر سرٹفکیٹ طلب کرنے کے لئے اسکول گیا تھا تو کسی ٹیچر نے اسے ڈانٹ کر واپس بھیجا تھا ۔ اس سے دل برداشتہ ہو کر نتین نے ایک ڈیتھ نوٹ میں تمام تفصیل لکھنے کے بعد اپنے گھر میں پھانسی لگا کر جان دے دی ۔
    
اپنے ماں باپ کے نام لکھے نتین کی ڈیتھ نوٹ میں درج ہے کہ جب وہ ٹی سی لینے اسکول گیا تھا تو اس کے ٹیچر نے اس پر سی سی ٹی وی توڑنے اور ٹوائلیٹ کا گیٹ اکھاڑنے کا الزام لگایا ۔ ٹیچر نے ٹی سی دینے کے لئے اس کے سامنے شرط رکھی کہ وہ اپنے والدین کو ساتھ لائے اور جرمانہ ادا کرے۔ میں آپ لوگوں کو تکلیف دینا نہیں چاہتا ۔ میری بہت زیادہ ہتک کی گئی ہے اور یہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ حالانکہ میں نے اپنے اوپر لگے الزامات سے انکار کیا تھا مگر میرے ٹیچر اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ مجھے ایسی حالت میں کس کے سامنے بات رکھنی چاہیے ۔ 
    
نتین کی خودکشی کے معاملے میں بیندور پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے ۔
    
اسی دوران نتین کے گھر والوں اور عوام کی طرف سے نتین کی خودکشی کا سبب بننے والے قصور واروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بیندور پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک خاطی افراد کو گرفتار کیا نہیں جاتا تب تک وہ نتین کی آخری رسومات ادا نہیں کریں گے۔ 
    
کنداپور کے ڈی وائی ایس پی بیلی اپّا ، پروبیشنری آئی پی ایس آفیسر ڈاکٹر ہرشا پریاماوڈا اور بیدور سرکل انسپکٹر سویتا تیز نے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا گیا اور اس کی تحقیقات جاری ہے ۔ ایک ہفتے کے اندر تفتیشی رپورٹ شائع کی جائے گی اور اس کی روشنی میں کسی تکلف کے بغیر قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اس تیقن کے بعد لاش کو آخری رسومات کے لئے اسپتال سے گھر کی طرف لے جایا گیا ۔ 


Share: